بھٹکل:8/جولائی (ایس اؤنیوز)انگریزوں کے بعد تشکیل پائے جمہوری ملک میں تخت شاہی اور آؤبھگت باقی ہے، اقتدار پر فائز ذمہ داروں میں انسانیت کی کمی ہونے کا سابق لوک آیوکتہ منصف سنتوش ہیگڈے نے خیال ظاہر کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا۔
وہ یہاں سنیچر کو شری ناگ یکشھا ہال میں بھٹکل تعلقہ ورکنگ جرنالسٹ اسوسی ایشن کی طرف سے منعقدہ یوم صحافت کی مناسبت سے ضلع رپورٹروں اور وکیلوں کے لئے منعقد ہ ورکشاپ کا افتتاح کرنے کے بعد خطاب کررہے تھے ۔ ملک میں ایمانداری ، نیکی ، بھلائی غائب ہوتی جارہی ہے، جرائم کو انجام دے کر جیل کی ہو ا کھا آئے لوگوں کی گلدستوں کے ذریعے آؤبھگت کی جارہی ہے ، جب کہ ہمارے بچپن میں کسی پر رشوت خور کا الزام بھی عائد کیا جاتاتو سماج اس کا بائیکاٹ کرتاتھا، لالچ ، حرص میں اضافہ ہونے سے عوام سکون کے لئے ترساں ہیں، 1950میں شروع ہوئی ہزاروں کی رشوت خوری و بد عنوانی 2010تک لاکھ لاکھ کروڑوں کو پار کرگئی ہے، ملک میں ہونے والا ایک گھپلہ کرناٹکا ریاست کے بجٹ سے کئی گناہ زیادہ ہے، پینے کے پانی کے لئے کروڑوں روپیہ خرچ کئے جانے والے ملک میں ایک گھڑے پانی کے لئے عوام بھاگ دوڑ کرنے والے حالات ہیں۔ اخلاق ، اقدار زوال پذیر ہیں، سماج کی تبدیلی کے لئے نوجوانوں کو آگے آنے چاہئے، انسانیت ہماری پیدائشی خصوصیت ہونی کا خیال ظاہرکیا۔ انہوں نے برسراقتدار حکومتوں کی دوغلی پالیسی کو واضح کرتے ہوئے کہاکہ 2011میں یوپی اے سرکار جب جی ایس ٹی کو جاری کرنا چاہی تو این ڈی اے نے سخت مخالفت کی۔ 2016میں این ڈی اے سرکار اسی جی ایس ٹی کو جاری کیا تو یوپی اے مخالفت کررہی ہے، یہ سب ہماری نمائندگی کرنے والی قانون ساز کونسل کی بدحالی اور ابتری کو پیش کرتی ہے۔ سال 2016کے لوک سبھا پارلیمان اجلاس میں کسی بھی ایک نکتہ پر بحث کئے بغیر منصوبہ جات کو منظور کیا گیا ہے ، ایک شفاف عدالتی نظام کی تشکیل ہونی چاہئے ، پبلک سرویس کمیشن کے نام پر رشوت خوری اور بدعنوانی کا دور دورہ ہے، عدلیہ میں بھی بہت ساری خامیاں ہیں، جئے للتا، سلمان خان کے معاملات میں جو فیصلے صادر کئے گئے ہیں، یقینا ً وہ کئی شبہات کو جنم دیتے ہیں۔ اترکنڑا ضلع کے بیلکیری بندرگاہ پر لوک آیوکتہ کے حکم پر ضبط کردہ 90لاری مینگنیز کےلاپتہ ہونے والے واقعات کے پس منظر میں انہوں نے بات کہی۔اپنے ذاتی تجربات کو پیش کرتے ہوئے سنتوش ہیگڈے نے کہاکہ لوک آیوکتہ سے پہلے میں ایک کوئیں کی مینڈک کی طرح تھا، لوک آیوکتہ سے وابستہ افراد سے ہی عوام سے تشکیل پائی سرکار کی طرف سے عوام سے کیسے بے انصافی کرتی ہے مجھے پتہ چلا۔
ضلع کے اہم کنڑا روزنامہ کراولی منجاؤ کے مینجنگ ایڈیٹر گنگادھر ہیرے گتی نے بھی اپنے زرین خیالات کا اظہارکیا۔ سنئیر صحافی جی یو بھٹ نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ جمہوریت کو تحفظ فراہم کرنے میں اخبارات کابہت بڑا رول ہوتاہے ، قانون ساز کونسل ، عدلیہ ، عدلیہ کی طرح صحافتی میدان میں بھی کئی تشویش ناک حالات پیدا ہونے کی بات کہی۔ پروگرام کی صدارت کرتے ہوئے مقامی رکن اسمبلی منکال وئیدیا نے کہاکہ تعلیم کو پہلی ترجیح دینے سے ملک مستحکم ہوتاہے ، ایک عوامی نمائندہ ہونے کے ناطے کیا کچھ کیا جاسکتاہے اس کا مجھے شعور ہے ،وہیں انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ کبھی بے انصافی کو برداشت نہ کریں۔ ضلع سنگھ کے صدر سبرائے بھٹ بکل ، شری وینکٹ رمن مندر انتظامیہ کے صدر ایم آر نائک، شری ناگ یکشھا مندر کے دھرم درشی رام داس پربھو نے بھی خطاب کیا۔ بھٹکل اسوسی ایشن کے صدر رادھا کرشنا بھٹ نے استقبال کیاتونائب صدر اور وارتابھارتی کے رپورٹر محمد رضامانوی نے افتتاحی کلمات پیش کئے ، بھاسکر نائک نے شکریہ اداکیا۔ پرسنا پربھو نے نظامت کی۔ راجا رام پربھو نے پرارتھنا گیت پیش کیا۔ پروگرام میں موہرے ہنومنت رایا کے ایوارڈیافتہ کراولی منجاؤ کے مینجنگ ایڈیٹر گنگادھر ہیرے گتی ، سماجی کارکن ایم آر نائک اور وکرم ہنومنت پربھو کی تہنیت کی گئی ۔